وجئے واڑہ،یکم اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے جمعرات کو عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی سے متعلق ایک معاملے میں 8 آئی اے ایس افسران کو دو ہفتہ جیل کی سزا سنائی۔ لیکن ان کے معافی مانگنے کے بعد عدالت نے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے انھیں ایک سال کی مدت کے لیے ہر مہینے ایک دن سماجی فلاح ہاسٹل میں خدمات دینے کی ہدایت دی۔ افسروں کے عدالتی احکام کی خلاف ورزی کرنے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عدالت نے انھیں یہ سزا سنائی۔
عدالت نے جن افسران کو آج سزا سنائی ان میں پنچایت راج پرمکھ سکریٹری جی کے دویدی، اس کے کمشنر گرجا شنکر، اسکول ایجوکیشن چیف سکریٹری بی راج شیکھر، اس کے کمشنر چنا ویربھدروڈو، اعلیٰ تعلیم سکریٹری جے شیاملا راؤ، اس کے سابق ڈائریکٹر وجے کمار، موجودہ ڈائریکٹر ایم ایم نائک اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ و شہری ترقی پرنسپل سکریٹری وائی سری لکشمی شامل ہیں۔
افسران کے معافی مانگنے کے بعد عدالت نے جیل کی سزا واپس لے لی اور انھیں ہر مہینے ایک دن سماجی فلاح ہاسٹل میں خدمات دینے کی ہدایت دی۔ انھیں طلبا کے مڈ-ڈے میل اور رات کے کھانے اور عدالت کے ایک دن کا خرچ برداشت کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ عدالت نے سرکاری اسکولوں سے گرام اور وارڈ سکریٹریٹس کو ہٹانے کے اپنے احکام کو نافذ نہیں کرنے کے لیے افسران کو ڈانٹ لگائی۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ افسروں نے قصداً ایک سال پہلے پاس احکامات کو نافذ نہیں کیا اور اس طرح عدالت کی خلاف ورزی کی۔
جسٹس بٹو دیوانند کی سنگل جج بنچ نے گزشتہ سال ستمبر میں حکم عدولی معاملے کی سماعت کی تھی۔ اس وقت افسران کے وکیل اور سرکاری وکیل نے بتایا تھا کہ ریاستی حکومت نے سرکاری اسکولوں کے احاطوں میں سکریٹریٹس اور رائتھو بھروسہ کیندر (آر بی کے) کو خالی کرانے کا حکم پہلے ہی جاری کر دیا تھا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ اسکولوں کے کئی احاطوں میں ایسی سہولیات پہلے ہی واپس لے لی گئی ہیں۔